اداکاری ۔۔ میری نظر میں
/
/
/
اداکاری ۔۔ میری نظر میں

مشتاق گزدر کا کہنا ہے کہ اپنے تجربات کی روشنی میں اداکاری پر ریڈیو ،ٹیلی ویژن، فلم اور اسٹیج کے حوالے سے۔ اور ان میڈیا پر اداکاری میں جو فرق ہے اس پر ایک مضمون لکھ دوں۔ مضمون تین چار صفحوں سے زیادہ کا نہ ہو۔ مشتاق اس مضمون کو ایک ’’بروشیور‘‘ میں چھاپنا چاہتے ہیں۔ میں کنّی کترا رہا ہوں۔

بات دراصل یہ ہے کہ مضمون لکھنا۔ کسی بھی موضوع پر مضمون لکھنا انتہائی ذمہ داری کا کام ہے۔ یہ کام یہی مضمون لکھنے کا کام۔ اس وقت اوربھی زیادہ ذمہ داری کا کام ہو جاتا ہے جب مضمون کے موضوع پر تحریروں کی کوئی روایت موجود نہ ہو اور موضوع ہو بھی تیکنیکی نوعیت کا۔ کسی بھی موضوع کے تیکنیکی پہلوؤں اور مسائل پر اظہار خیال کرنے سے پہلے ان کی نشاندہی اور وضاحت ضروری ہوتی ہے۔ ورنہ تو پڑھنے والا موضوع کی تیکنیکی اصطلاحوں کی بھول بھلیوں میں بھٹکتا رہتا ہے۔ میں یہ بات وثوق سے اس لئے کہہ سکتا ہوں کہ جب میں نے اداکاری کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا۔ شروع شروع میں تو مجھے بھی اس دقّت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسی تیکنیکی اصطلاحوں کے اسرار ورموز سمجھنے کی دقّت کا۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے ملک اور اپنی زبان میں اس موضوع پر، اداکاری کے موضوع پر، روایت کی عدم موجودگی کا رونا رویا ہے۔ روایت در اصل ایک طرح سے ہماری آگہی کی تہذیب کا ذریعہ ہوتی ہے اور کسی خاص میدان میں روایت کی عدم موجودگی سے اس میدان میں ہماری آگہی کی تہذیب نہیں ہو پاتی اور ہم اجنبیت کا شکار رہتے ہیں۔ اس خاص میدان میں اجنبیت اتنی بڑی چیز بھی نہیں ہوتی۔ اسی اجنبیت کی وجہ سے مجھ میں تجسّس بیدار ہوا تھا اور اسی تجسّس کی وجہ سے میں وہاں پہنچا ہوں جہاں میں ہوں بہر حال!

میں نے جس زمانے میں اداکار بننے کا فیصلہ کیا۔ یا بقول میری نانی کے مجھ پر بھانڈپن کا بھوت سوار ہوا۔ اس زمانے میں ریڈیو ڈرامے کا بہت زور تھا۔ متوسط طبقے میں ریڈیو ڈرامے سے ویسی ہی وابستگی پائی جاتی تھی جیسی آج کل ٹی وی ڈرامے سے۔ اُس زمانے میں کالج کے لڑکے لڑکیاں شیلے اور کیٹس کی شاعری پڑھ کر ٹھنڈی سانسیں بھرتے تھے۔ چھپ چھپا کر ٹسوے بہانے والا عشق کیا کرتے تھے، ان کے ماں باپ انہیں ڈاکٹر یا انجینئر اور یا پھر سول سروس پاس کروانا چاہتے تھے اور اتوار کی رات نو بجے سب ملکر اسٹیڈیو نمبر ۹ سنا کرتے تھے۔ اس ماحول میں مجھے اداکاری کا شوق کیوں ہوا یہ ایک الگ مسئلہ ہے اہم بات یہ ہے کہ مجھ میں یہ شوق۔ یہی اداکار یا صدا کار بننے کا شوق ریڈیو ڈرامے سن کر پیدا ہوا اور یہی بات اہم ہے کیونکہ اسی شوق کے ذریعہ میں نے مکالموں کی حقیقت پسندانہ ادائیگی اور اس ادائیگی کے لئے لفظوں کے درمیان چھپے ہوئے جذبات و احساسات اور ذہنی اور نفسیاتی کیفیات کو تلاش کرنا سیکھا۔ میری حد تک یہ وہ دور تھا جب مجھے ڈرامے یا اداکاری کے اسرار و رموز سے قطعی واقفیت نہیں تھی محض موثر صدا کاری ہی میرا مطمعِ نظر تھی۔

 یہاں تک تو بات ٹھیک ٹھاک چل رہی تھی اس لئے کہ اداکار یا اداکارہ اس شخص یا فنکار کو کہتے ہیں جو اپنے کردار کی ذہنی اور جذباتی کیفیات سے اپنی ذات کو ہم آہنگ کر کے اس کردار کی ترجمانی اس طرح کرے کہ دیکھنے یا سننے والا اسے وہ کہ دارسمجھنے پرمجبور ہو جائے۔ یہی کچھ کرنے کی کوشش میں کیا کرتا تھا۔ ریڈیو پہ ڈرامے کی تین چار دن تک ریہرسل ہوتی تھی اسکرپٹ پچاس یا پچپن منٹ کا ہوتا تھا اور اتنی ہی دیر میں اُسے نشر کردیا جاتا تھا۔ اس پچاس یا پچپن منٹ کے دورانیے میں کرداروں پر برسوں گزر جاتے تھے نسلیں گزر جاتی تھیں۔ گویا ڈرامے میں چند کرداروں کے تعلق سے ایک مکمل معاشرتی ماحول پیدا کیا جاتا تھا جس کا اپنا ایک ٹائم اسپین ہوتا تھا اور اس ٹائم اسپین میں ان کرداروں کی مختلف جزباتی اور نفسیاتی کیفیات منطقی طور پر مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی انجام کو پہنچتی تھیں۔

یہ ساری باتیں۔ یہی ڈرامے کے دورانیے اور اس دورانیے میں ایک مکمل معاشرتی ماحول اور ٹائم اسپین کی باتیں میں اس لئے کر رہاہوں کہ آگے چل کر بحیثیت اداکار کے مجھے ایک محدود دورانیے میں ٹائم اسپین کے تصور اور اس تصور کے ناطے کر دار نگاری کے تسلسل کو قائم رکھنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑا تھا

اسٹینس لاؤسکی ۔ مشہور رشین اسٹیج اداکار اور ڈایئرکٹر

اداکاری کے بارے میں یوں تو اسٹین لاؤ سکی، مائر ہولڈ اور بریخت کے علاوہ بھی اس فن کے ماہرین نے اپنے اپنے طور پر نظریات اور تعریفیں پیش کی ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اسٹینس لاؤسکی کے نظریات یا تعریف ہی آگے بڑھائی جائے تو بہتر ہو گا۔ یہ اس لئے کہ آج تک یا تو لوگوں نے اسی کے نظریات اور خیالات کی تشریح کی ہے اور یا پھر ان سے انحراف کیا ہے۔
اسٹینس لاؤسکی اداکاری کی تعریف یوں کرتا ہے۔
اداکاری کا مطلب یہ ہے کہ اداکار جتنے بھی عرصہ اسٹیج پر رہے انسانی فطرت کے مطابق اپنے کردار کے تمام تقاضے صحیح صحیح اور منطقی طور پر ایک تسلسل کے ساتھ پورا کرتا رہے۔

اسٹینس لاؤسکی نے بات محض ایسٹیج کے حوالے سے کی ہے۔ صرف اس لئے کہ اس کے عہد میں ڈرامہ صرف اسٹیج تک ہی محدود تھا۔ لیکن اس تعریف یہی اداکاری کے بارے میں تعریف۔ ڈرامے اور اداکاری کی حقیقت پسندانہ تحریک کے حوالے سے انتہائی جامع ہے۔

اداکاری خواہ اسٹیج پرکی جارہی ہو ےا ٹیلی ویژن ،فلم اور ریڈیو پر اسٹینس لاؤسکی کے بتائے ہوئے اصولوں سے انحراف نہیں کیا جاسکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ ریڈیو پر محض آواز اور گلا استعمال کیا جاتا ہے۔ مختلف نفسیاتی کیفیات کے اظہار کے لئے۔ اور فلم اور ٹیلی ویژن میں آواز کے ساتھ ساتھ جسمانی حرکات وسکنات اور چہرے کے اتار چڑھاؤ سے بھی کردار نگاری کی جاتی ہے۔ میک اپ اس کے علاوہ ہے۔
بنیادی مسئلہ جوکسی بھی اداکار کو درپیش ہوتا ہے وہ اپنے فعال تخیل سے کام لے کر اپنی جذباتی اور نفسیاتی کیفیات کو اسی کردار کی جذباتی اور نفسیاتی کیفیات سے جو کر دار وہ ادا کر رہا ہے ہم آہنگ کرنے کا ہوتا ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے۔ یہی اداکار کے فعال تخیل کا اپنی جذباتی اور نفسیاتی کیفیات کو اپنے کردار کی جذباتی اور نفسیاتی کیفیات سے ہم آہنگ کرنے کا۔ جواداکاری کو موثر یا غیر موثر بناتا ہے اور جہاں کوئی بھی اداکار مشکل میں پڑ سکتا ہے۔ باقی تفصیل کو توفی الحال جانے دیجئے ایک اہم مشکل جواد ا کار یا اداکارہ کوپیش آسکتی ہے وہ ہے مختلف مراحل میں کردار کی نفسیاتی کیفیات یا جذبات اور احساسات میں تسلسل قائم رکھنا ہے۔ اگر کردار کی ادائیگی ایک مخصوص ٹائم اسپین میں ہو رہی ہو۔ جیسے ریڈیو ڈرامہ یا اسٹیج ڈرامہ تو اس میں ان کیفیات میں۔ انہی جذباتی اور نفسیاتی کیفیات میں تسلسل قائم رکھنا اتنا دشوار نہیں ہوتا کیونکہ اسکرپٹ میں ڈرامہ نگار خود ہی اس تسلسل کو قائم رکھنے کی بنیاد فراہم کردیتا ہے۔ اداکار کواپنی سمجھ بوجھ کے مطابق اپنے آپ کو کردار کے رحم وکرم پر چھوڑنا ہو تا ہے۔ایک مخصوص ٹائم اسپین میں یہ کام خود بخود منطقی ہو جاتا ہے اور اس میں ایک تسلسل قائم رہتا ہے۔ لیکن اگر یہ تسلسل۔ یہی ٹائم اسپین کا تسلسل بار بار ٹوٹتاہے تو یہ کام اداکاری اور کردار نگاری کا کام مشکل ہوجاتا ہے۔ اورٹیلی ویژن اور فلم اورریڈ یو اور اسٹیج پر اداکاری میں یہی فرق ہے۔

طلعت حسین صاحب ایک ڈرامے کے سیٹ پر اپنی اداکاری کے جوہر دکھاتے ہو ے

ہوتا در اصل یہ ہے کہ ٹیلی ویژن اور فلم پر اسکرپٹ یا ڈرامے کی فلمبندی کے دوران مناظر کی ترتیب کو مقامات کے مطابق ان قیاسات کے مطابق جہاں وہ مناظر فلمائے جانے ہوتے ہیں۔ بدل لیا جاتا ہے مثلاً ایک کردار کی شادی اور اس کے کسی بھی قریبی رشتے دار کی بیماری اور موت کے مناظر ایک مخصوص کمرے میں پیش آتے ہیں اور شادی کی تقریب اور موت کے ساتھے اور بیماری کے درمیان ملازمت کی اونچ نیچ اور خوشحالی یا تنگدستی دوسرے مقامات پراس صورتحال کے مد نظر شادی کی خوشی اور رشتہ دار کی بیماری اور موت کے درمیان جو واقعات پیش آتے ہیں انہیں چھوڑ کر شادی بیماری اور موت کے مناظر ایک ساتھ فلمبند کئے جاتے ہیں۔ شادی کی خوشی تو خوشی ہے لیکن اس کے بعد بیماری کی فکر اور موت کا غم اور ان دونوں جز باقی کیفیات پر اسی کردار کی خوشحالی یا تنگدستی سے جو تاثرات قائم ہو رہے ہیں۔ ان کا اظہار بھی ضروری ہوتا ہے ایک تو خوشی فکر اور موت کا غم یونہی قطعی مختلف کیفیات ہیں اور پھران کا پس منظر ان کے اظہار کو اور بھی پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اب اگر یہ تمام صورت حال ایک تسلسل میں قلمبند ہورہی ہو تو اداکار کام اتنامشکل نہیں ہوتا لیکن اگر ان واقعات کے تسلسل کو توڑ دیا جائے تو ان کیفیات کو۔ انہی شادی کی خوشی، بیماری کی فکر اور موت کے غم کی کیفیات کو الگ االگ واضح تاثرات کی شکل دینا اور ان کے درمیان کردار نگاری کے تسلسل کو قائم رکھنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ اسکریٹ یا ڈرامے کے ٹائم اسپین جزیاتی اور نفسیاتی ٹائم اسپین کے بار بار ٹوٹنے سے کردار کی نفسیاتی اور جذباتی اور ذہنی کیفیات اور اداکار کی ذات کے درمیان بار بار ایک فاصلہ پیدا ہوتا رہتا ہے۔ اس کی وجہ سے۔ اسی کردار کی ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی کیفیات اور اداکار کی ذات کے درمیان بار بار فاصلہ پیدا ہونے سے۔ اداکار کا فعال تخیل کمزور پڑتا چلا جاتا ہے۔

اسی کمزوری کی وجہ سے۔ اسی تخیل کی کمزوری کی وجہ سے کردار نگاری کا تسلسل متاثر ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ فلم اور ٹیلی ویشانپر اعلی ترین اداکاری کم ہی دیکھنے کوملتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی وجوہات ہیں۔ ان دونوں میڈیا پر اعلی ترین اداکاری کم دکھائی دینے کی۔ لیکن ان وجوہات کا تعلق ان دونوں میڈیا کی تیکنیکی دشواریوں سے ہے۔ اداکارکی ذات سے نہیں اداکارکی ذات سے تو محض اسی مشکل کا تعلق ہے۔ اسی اپنے فعال تخیل کی کمزوری پر حاوی ہونے کی مشکل کا۔ یہی مشکل مجھے پیش آتی رہی ہے اور آتی رہتی ہے اور یہی فرق ہے، ریڈیو، اسٹیج اور فلم اور ٹیلی ویژن پر اداکاری میں۔
فرق کو ایک بار پھر واضح کر دوں۔
ریڈیو اور اسٹیج پر عام طور پر ایک مخصوص دورانیے میں اداکاری کرنی پڑتی ہے جس کے باعث کردار نگاری میں تسلسل قائم رکھنا آسان ہوتا ہے اور فلم ٹیلی ویژن میں اداکاری کا دورانیہ عام طور پر طویل ہوتا ہے اور اسکرپٹ یا ڈرامے کی فلمبندی میں مناظر کی ترتیب کے درمیان منطقی تسلسل قائم نہیں رکھا جاتا لہذا کردار نگاری میں تسلسل قائم رکھنا بھی مشکل ہوتا ہے۔

Talat Hussain (1940–2024) was one of Pakistan’s most distinguished actors, often hailed as “the Pakistani Laurence Olivier” for his versatility and commanding presence. With a career spanning over six decades in film, television, radio, and theatre, he left behind a legacy of excellence, mentoring generations of performers and earning top national honors including the Pride of Performance (1982) and Sitara-i-Imtiaz (2021). Talat Hussain’s legacy is not only in his performances but also in his role as a teacher, mentor, and cultural icon who shaped Pakistan’s performing arts landscape.

Share this post

There are no comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Start typing and press Enter to search

Shopping Cart

No products in the cart.